صوبہ سندھ اپنی جغرافیائی ساخت کی بدولت پاکستان کا سب سے بڑا آبی ذخیرہ ہے۔ دریائے سندھ اپنے سینے میں کئی نادر مچھلیوں کو پناہ دیتا ہے، منچھر جھیل میٹھے پانی کی وسیع ترین جھیل کے طور پر جانی جاتی ہے، اور کینجھر جھیل کی خاموش گہرائیاں ہر سال ہزاروں شوقین ماہی گیروں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔

شوقیہ ماہی گیری سندھ میں روز افزوں مقبول ہو رہی ہے، خاص طور پر 35 سے 60 سال کی عمر کے مردوں میں جو ہفتے کے آخر میں شہری ہلچل سے دور کچھ پرسکون وقت گزارنا چاہتے ہیں۔

بہترین موسم

نومبر سے فروری سندھ میں مچھلی کے شکار کا سب سے موزوں وقت ہے۔ ان مہینوں میں:

  • پانی کا درجہ حرارت 16 سے 22 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے جو مچھلی کی سرگرمی کے لیے مثالی ہے۔
  • روہو اور ملی کانٹے پر آسانی سے آتی ہیں۔
  • پالا مچھلی (Hilsa / Palla) دریائے سندھ میں نومبر کے آخر میں اوپر آنا شروع ہوتی ہے۔
  • موسم معتدل ہونے کی وجہ سے طویل مدت تک پانی کے کنارے بیٹھنا آسان ہوتا ہے۔

مارچ کے بعد گرمی بڑھتی ہے اور مچھلی گہرے پانی میں چلی جاتی ہے۔ مانسون کے دوران (جولائی تا ستمبر) جھیلوں کی سطح بلند ہو جاتی ہے اور شکار مشکل ہو جاتا ہے۔

اہم آبی ذخائر

منچھر جھیل — ضلع دادو

یہ پاکستان کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ہے جس کا رقبہ خشک موسم میں تقریباً 160 اور بارشوں کے بعد 250 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہاں روہو، ملی، تھیلا اور بوئی مچھلیاں کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ حیدرآباد سے سڑک کے راستے لگ بھگ 90 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

کینجھر جھیل — ضلع ٹھٹھہ

کراچی سے 122 کلومیٹر دور واقع یہ جھیل سیاحت اور ماہی گیری دونوں کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کشتی کرایے پر ملتی ہے اور مقامی ماہی گیر چارہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ سردیوں کے اختتام پر ہفتے کے آخر میں یہاں رش رہتا ہے۔

دریائے سندھ — حیدرآباد تا سکھر

دریائے سندھ کا یہ حصہ پالا مچھلی کے لیے پاکستان میں سب سے مشہور ہے۔ نومبر کے آخر سے جنوری کے وسط تک پالا دریا میں اوپر آتی ہے اور اس کا ذائقہ دیگر نسلوں سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ سکھر بیراج کے آس پاس مقامی ماہی گیروں کے ساتھ مل کر جالوں سے بھی شکار ہوتا ہے۔

مچھلیوں کی اہم نسلیں

  • روہو (Rohu): سب سے عام اور مقبول، وزن 1 سے 8 کلو تک۔
  • ملی (Malli / Catla): بڑے سر والی، تیز سطحی تیراک، 2 سے 12 کلو۔
  • پالا / ہلسہ: دریائے سندھ کی خاصیت، تیلیلی اور لذیذ، مگر کانٹے والی۔
  • سول (Snakehead): چھچھلے پانی میں پائی جاتی ہے، مقامی طور پر بہت مانگ ہے۔
  • تھیلا (Thela): منچھر جھیل میں عام، ابتدائی ماہی گیروں کے لیے آسان۔

سامان اور تیاری

بنیادی سامان

نئے شوقین کے لیے 2,500 سے 4,000 روپے میں مکمل ابتدائی کٹ تیار ہو جاتی ہے:

  • فائبر گلاس یا کاربن فائبر رو — 7 سے 10 فٹ لمبی
  • نایلون مونو فلامنٹ لائن — نمبر 6 یا 8 (روہو کے لیے 10 نمبر بھی استعمال ہوتا ہے)
  • مختلف سائز کے کانٹے — نمبر 4، 6 اور 8
  • فلوٹ (بلبلہ) — پانی کی گہرائی کے حساب سے
  • سیسے کے چھرے — وزن کے لیے

چارہ

مقامی چارے میں سب سے مؤثر آٹے کا گولہ ہے جسے سرسوں کے تیل، ہلدی اور نمک کے ساتھ گوندھا جاتا ہے۔ اس مرکب میں تھوڑی سی چینی یا گڑ ملانے سے روہو تیزی سے آتی ہے۔ زندہ مٹی کیڑے (earthworm) سول اور سطحی مچھلیوں کے لیے بہترین چارہ ہے۔

عملی مشورے

  • صبح سویرے طلوع آفتاب سے دو گھنٹے پہلے تک کا وقت سب سے مؤثر ہوتا ہے۔
  • پانی میں چارہ پھینکنے سے پہلے 15 سے 20 منٹ ایک جگہ کھاجا ڈالیں تاکہ مچھلی قریب آئے۔
  • شور سے گریز کریں — پانی میں آواز بہت آگے تک جاتی ہے۔
  • سردیوں میں دھوپ نکلنے کے بعد پانی ہلکا گرم ہوتا ہے، تب مچھلی زیادہ متحرک ہوتی ہے۔
  • پہلی بار کسی مقامی ماہی گیر کی رہنمائی میں جائیں — وہ جگہ اور وقت کی بہتر معلومات رکھتے ہیں۔

آخری بار اپ ڈیٹ: 5 اپریل 2026