پاکستان میں کبوتر بازی محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ یہ مغل دور سے چلی آ رہی ایک تہذیبی وراثت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر کے کبوتر خانے میں بیس ہزار سے زائد کبوتر پالے جاتے تھے اور وہ ان کی افزائش اور اڑان مقابلوں کا خود نظارہ کرتے تھے۔ آج لاہور کے اندرون شہر — خاص طور پر شاہ عالمی، موری گیٹ اور گوالمنڈی کے محلوں — میں یہ روایت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔

کراچی میں لیاری، بلدیہ ٹاؤن اور کیماڑی کے علاقے بھی کبوتر بازوں کے مضبوط مراکز ہیں جہاں ہفتہ وار مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ ملتان، فیصل آباد اور پشاور میں بھی یہ شوق خاصہ عام ہے، مگر لاہور کو اس روایت کا مرکز کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

مشہور پاکستانی نسلیں

پاکستانی کبوتر باز عام طور پر مقامی اور درآمد شدہ نسلوں کو الگ الگ رکھتے ہیں۔ کچھ نسلیں اڑان مقابلوں کے لیے پالی جاتی ہیں جبکہ کچھ کو نمائش اور افزائش کے لیے۔

لاہوری

یہ پاکستان کی سب سے مشہور نسل ہے۔ جسم عموماً سفید ہوتا ہے اور دم پر گہرے رنگ کی چمکدار دھاریاں ہوتی ہیں۔ لاہوری کبوتر اونچی اڑان کے لیے معروف ہے اور ایک اچھا لاہوری گھنٹوں ہوا میں رہ سکتا ہے۔ قیمت 3,000 سے لے کر 50,000 روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

شیرازی

ایران سے آئی اس نسل کا جسم درمیانہ، رنگ گہرا بھورا یا سنہری اور مزاج نسبتاً پرسکون ہے۔ شیرازی گھر کے ماحول میں آسانی سے ڈھل جاتا ہے اور ابتدائی شوقینوں کے لیے موزوں ہے۔

ٹیڈی

ٹیڈی چھوٹے قد کا، گول چھاتی والا کبوتر ہے جس کی چونچ کوتاہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ نمائشی مقابلوں میں اکثر نظر آتا ہے۔ اس نسل کی دیکھ بھال قدرے زیادہ توجہ مانگتی ہے مگر تجربہ کار باز اسے بہت پسند کرتے ہیں۔

گرگری

گرگری اپنی مخصوص گٹرگٹر آواز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ نسل رنگوں میں بہت متنوع ہے اور لاہور کے شوقینوں میں اس کا بہت چاہنے والا طبقہ موجود ہے۔

کبوتر خانہ: تعمیر اور انتظام

ایک مناسب کبوتر خانہ کبوتروں کی صحت اور پیداوار کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ لاہور کے پرانے شہر میں چھتوں پر بنے روایتی کبوتر خانے لکڑی کے ڈھانچے پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں ہوا کی آزاد آمد و رفت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

تعمیر کے وقت چند باتوں کا خیال ضروری ہے:

  • رقبہ: ہر دس کبوتروں کے لیے کم از کم 4 مربع فٹ کا فرشی رقبہ۔
  • اونچائی: چھت کم از کم چار فٹ اونچی ہو تاکہ ہوا کا گزر آسان ہو۔
  • گھونسلے: ہر جوڑے کے لیے الگ، بند خانہ یا دراز — یہ افزائش کے لیے ضروری ہے۔
  • صفائی: فرش ہفتے میں کم از کم دو بار صاف ہو؛ بیٹ جمع ہونے سے سانس کی بیماریاں پھیلتی ہیں۔
  • پانی: تازہ صاف پانی ہر روز صبح دیا جائے؛ کٹورے کو روزانہ دھویا جائے۔

خوراک

روایتی مرکب میں گندم 50 فیصد، جوار 30 فیصد اور باجرہ 20 فیصد شامل ہوتا ہے۔ گرمیوں میں باجرے کی مقدار کم کی جاتی ہے جبکہ سردیوں میں گندم اور مکئی کا تناسب بڑھایا جاتا ہے۔ پروٹین کی ضرورت کے لیے کبھی کبھی کچا چاول یا چھوٹی سی مقدار میں دالوں کا اضافہ کیا جاتا ہے۔

اڑان مقابلے اور گرہ بازی

لاہور میں ہر جمعے اور اتوار کی صبح کئی محلوں میں اڑان مقابلے ہوتے ہیں۔ مقابلے میں کبوتر کی اونچائی، اڑان کا دورانیہ اور ہوا میں ٹھہرنے کا انداز دیکھا جاتا ہے۔ فاتح کبوتر کی قیمت ہزاروں سے لاکھوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

گرہ بازی ایک اور مشہور کھیل ہے جس میں ہنر مند کبوتر باز اپنے جھنڈ کو اس طرح اڑاتا ہے کہ سامنے والے کے کبوتر اس کے ساتھ مل جائیں۔ یہ ایک پیچیدہ ہنر ہے جو برسوں کی مشق سے آتا ہے۔ پکڑے گئے کبوتر یا تو واپس کیے جاتے ہیں یا رکھ لیے جاتے ہیں — یہ مقامی روایت اور سمجھوتے پر منحصر ہے۔

جو مرد اس مشغلے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے بہتر ہے کہ پہلے کسی تجربہ کار باز سے رابطہ کریں، اپنے علاقے کے مقامی مقابلوں میں بطور تماشائی شرکت کریں اور تھوڑے تجربے کے بعد خود کبوتر خریدیں۔ جلد بازی میں خریدے گئے کبوتر اکثر کام کے نہیں نکلتے۔

آخری بار اپ ڈیٹ: 10 اپریل 2026